نئی دہلی،27 ؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پنجاب کانگریس کے رہنماؤں کے لئے چندی گڑھ لوک سبھا سیٹ اس وقت ہاٹ سیٹ بن گئی ہے، جس پر الیکشن لڑنے کے لئے اپنی اپنی دعویداری کرنے کا سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔سب سے پہلے ہی پنجاب کانگریس کی سینئر لیڈر اور پنجاب کابینہ کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کی بیوی نوجوت کور سدھو نے چندی گڑھ لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑنے کے لئے اپنا دعوی کر دیا ہے، جس سے پنجاب اور چندی گڑھ کی سیاست میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔نوجوت کور نے جمعہ کی شام کو چندی گڑھ کے کانگریس عمارت پہنچ کر چندی گڑھ سے لوک سبھا الیکشن لڑنے کو کانگریس ٹکٹ کے لئے چندی گڑھ کانگریس کے صدر پردیپ چھابڑا کو تحریری درخواست دی۔توجہ دینے والی بات یہ ہے کہ نوجوت کور اور نوجوت سدھو کا علاقہ امرتسر کا ہے، جہاں سے نوجوت سدھو 2004 سے لے کر 2014 تک لوک سبھا ایم پی رہے۔یہی نہیں ان کی بیوی نوجوت کور امرتسر سابق اسمبلی سیٹ سے ممبر اسمبلی بھی رہی۔مگر فی الحال امرتسر لوک سبھا سیٹ کانگریس کے گرجیت سنگھ اوجلا کے پاس ہے۔نوجوت کور کا کہنا ہے کہ میں نے عورت کوٹے سے چندی گڑھ کے لئے درخواست دی ہے۔پنجاب کی گروپ سیاست کی وجہ سے میں چندی گڑھ آئی ہوں۔پنجاب میں کیپٹن امریندر، جاکھڑ اور باجوا گروپ ہیں۔حالانکہ مجھے ان سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔سدھو جی پنجاب میں کام کر ہی رہے ہیں، اس لئے میں نے چندی گڑھ سے دعوی کر دیا ہے۔چندی گڑھ کے لئے دعوی کرنے والے لیڈروں میں اگلا نام سابق مرکزی وزیر منیش تیواری کا ہے۔منیش تیواری 2009 میں لدھیانہ لوک سبھا سیٹ سے پارلیمنٹ پہنچے تھے۔لیکن 2014 میں انہوں نے لوک سبھا کا انتخاب نہیں لڑا جس کے بعد کانگریس کے رونیت سنگھ بٹو میں لڑا اور فی الحال وہ لدھیانہ کے ایم پی ہیں۔اتوار کی صبح منیش تیواری چندی گڑھ کانگریس صدر پردیپ چھابڑا سے ملے اور چندی گڑھ لوک سبھا سیٹ کے لئے اپنا دعوی ٹھوک دیا۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ چندی گڑھ لوک سبھا سیٹ سے گزشتہ کافی عرصے سے سابق مرکزی وزیر پون کمار بنسل انتخابات لڑ کر جیتے آرہے ہیں۔حالانکہ2014 میں وہ یہاں سے الیکشن ہار گئے تھے لیکن اس بار پھر انہوں نے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔پون کمار بنسل کا کہنا ہے کہ الیکشن لڑنے کے لئے کوئی بھی دعوی کر سکتا ہے پر آخری فیصلہ تو ہائی کمان کا ہی ہوگا۔میں نے چالیس سال کام کیا ہے۔